ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کرناٹک اسمبلی انتخابات: پرچہ داخل کرنے کے آخری دن بھٹکل جے ڈی ایس کی طرف سے ایس ایم امجد نے بھرا پرچہ ؛ جملہ دس اُمیدوارمیدان میں

کرناٹک اسمبلی انتخابات: پرچہ داخل کرنے کے آخری دن بھٹکل جے ڈی ایس کی طرف سے ایس ایم امجد نے بھرا پرچہ ؛ جملہ دس اُمیدوارمیدان میں

Tue, 24 Apr 2018 20:11:37    S.O. News Service

بھٹکل:24/اپریل (ایس او نیوز) کرناٹکا اسمبلی انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے آج آخری دن جملہ چھ اُمیدواروں نے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا، جس میں قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے رکن انتظامیہ ایس ایم امجد بھی شامل ہیں جنہوں نے جے ڈی ایس کی ٹکٹ پر اپنا  پرچہ  داخل کیا ہے۔

پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا آج آخری دن تھا،   بھٹکل اسمبلی حلقہ سے اب جملہ دس لوگ میدان میں ہیں جن کی جانب سے جملہ 13 پرچہ نامزدگی داخل کئے گئے ہیں۔

الیکشن آفسر کی جانب سے دی گئی اطلاع کے مطابق  کانگریس اُمیدوار منکال وئیدیا نے دو اور بی جے پی اُمیدوار سنیل نائک نے تین پرچہ نامزدگی داخل کیں ہیں اسی طرح جے ڈی ایس کی طرف سے ایس ایم امجد،  شیوسینا کی طرف سے مرڈیشور کے جینت گوندنائک ، ایم ای پی (ویمن ایمپاورمنٹ پارٹی)  سے عبدالغفور سنتے گولی ،آزادامیدوار کے طورپر عبدالرحمن ٹونکا،  پرکاش پاسکل پنٹو،  جبروت خطیب اور ایرا دُرگپا نائک  نے پرچہ نامزدگی داخل کیں   ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ بی جے پی کے سنیل نائک نے  پیر کو 2پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا، آج منگل کو انہوں نے مزید  ایک پرچہ داخل کیا ہے۔

آج آخری دن جے ڈی ایس کی طرف سے عنایت اللہ شاہ بندری کے قریبی سمجھے جانے والے مجلس اصلاح وتنظیم کے ایگزکیٹیو ممبر  ایس ایم امجد نے پرچہ نامزدگی داخل کرتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ جے ڈی ایس کے ضلعی صدر بی آر نائک، یوتھ صدر پانڈونائک اور کرشنانند پائی موجود تھے۔

ایس ایم امجد جے ڈی ایس اُمیدوار؛ بغاوت کریں گے یا پارٹی سے وفاداری نبھائیں گے ؟

پارٹی کی پہلی فہرست میں ہی ٹکٹ پانے والے جے ڈی ایس کے مقامی صدر عنایت اللہ شاہ بندری نے گذشتہ روز تنظیم کی انتظامیہ میٹنگ میں  اپنی امیدواری سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا تھا، سمجھا جارہا تھا کہ ان کی جگہ پر بنگلور ہائی کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ  ناگیندر نائک   کو اُتارا جائے گا، مگر انہوں نے جے ڈی ایس کی ٹکٹ پر میدان میں اُترنے سے انکار کیا تھا۔ 

 تنظیم کے ایگزکیٹیو ممبر ہوتے ہوئے تنظیم فیصلے کا اعلان ہونے سے پہلے ہی ایس ایم امجد کا پرچہ نامزدگی داخل کرنا عوام میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔اس تعلق سے ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایس ایم امجد نے بتایا کہ  منکال وئیدیا کی تنظیم میں آمد کے بعد  انہوں نے کچھ وعدے کئے تھے، مگر انہوں نے ابھی تک اپنا وعدہ نہیں نبھایا ہے، امجد کے مطابق اس تعلق سے انہوں نے تنظیم کو ایک تفصیلی خط بھی لکھا ہے، جبکہ آج پرچہ نامزدگی کے فوری بعد تنظیم کو اپنی حمایت کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ایک خط بھی دیا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اگر تنظیم آپ کے حق میں فیصلہ نہیں کرتی ہے تو کیا آپ اپنا پرچہ نامزدگی واپس لیں گے ؟  جواب میں امجد نے بتایا کہ انہوں نے تنظیم کے کچھ ذمہ داران سے  صلاح  ومشورہ کے بعد ہی  اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ امجد کے مطابق منکال وئیدیا کے بعض  کاموں سے تنظیم کے اکثر اراکین ناراض ہیں اور حال ہی میں کیا گیا وعدہ ابھی تک نہ  نبھاپانے کی وجہ سے اُنہیں پوری اُمید ہے کہ تنظیم ان کے حق میں ہی فیصلہ سنائے گی۔

ویسے تو مجلس اصلاح و تنظیم کی جانب سے کسی بھی پارٹی کے حق میں فیصلہ نہیں سنایا گیا ہے مگر  تنظیم کا پورا جھکائو کانگریس کی طرف نظر آرہا ہے ، ایسے میں  یہ  دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ  تنظیم اگرامجد کےحق میں فیصلہ نہیں سناتی ہے تو کیاتنظیم کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ایس ایم امجد  اپنا پرچہ واپس لیتے ہیں یا پھر بغاوت کرتےہوئے پارٹی  کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہیں۔

24april2.jpg


Share: